بھیجا نہ گیا ایک پیغام

بھیجا نہ گیا ایک پیغام

ایک شام میں نے فون پر ایک صوتی پیغام ریکارڈ کیا، پھر اسے بھیجنے کے بجائے دوبارہ سننے لگا۔ پس منظر میں پنکھے کی ہلکی آواز تھی اور میری اپنی آواز مجھے کچھ زیادہ سنجیدہ محسوس ہو رہی تھی۔ پیغام مختصر تھا، مگر اسے بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔

الفاظ درست کرنے کی کوش

میں نے وہی بات کئی انداز سے کہی، کبھی جملہ ادھورا چھوڑا اور کبھی آغاز ہی سے دوبارہ ریکارڈ کیا۔ اصل میں الفاظ کی کمی نہیں تھی؛ مجھے بس یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پرانی شناسائی کے بعد گفتگو کہاں سے شروع کی جائے۔ فون کی اسکرین پر ریکارڈنگ کا وقت بڑھتا رہا اور کمرے میں شام گہری ہوتی گئی۔

خاموشی بھی جواب تھی

آخر میں پیغام محفوظ کرکے فون ایک طرف رکھ دیا۔ اس لمحے مجھے یہ اچھا لگا کہ میں نے بات کو جلدی میں کسی نتیجے تک نہیں پہنچایا۔ کبھی کسی سے رابطہ کرنے کی خواہش اور اسے فوراً پیغام بھیج دینا ایک ہی بات نہیں ہوتے۔

اگلی صبح کا خیال

اگلی صبح وہ ریکارڈنگ اب بھی موجود تھی، مگر اس کی آواز رات جیسی بھاری نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے اسے دوبارہ سنا اور پھر بھی نہیں بھیجا۔ کچھ باتیں شاید اسی لیے ذہن میں رہ جاتی ہیں کہ ہم انہیں مکمل کرنے کے بجائے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔