قمیص دھونے سے پہلے جیب ٹٹولی تو ایک تہہ کیا ہوا پرچہ نکل آیا۔ کاغذ نرم پڑ چکا تھا اور ایک کونے پر نیلی سیاہی پھیل گئی تھی۔ کھول کر دیکھا تو چند چیزوں کے نام تھے، ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک جملہ: گھر واپسی پر فون کرنا۔
بازار کی ایک دوپہر
اس پرچے نے مجھے ایک مصروف دوپہر یاد دلائی، جب میں بازار میں چیزیں لیتے ہوئے بار بار جیب سے فہرست نکالتا رہا تھا۔ دکانوں کے باہر آوازیں آپس میں گڈمڈ تھیں، اور ہاتھ میں پکڑا کپڑے کا تھیلا آہستہ آہستہ بھاری ہو رہا تھا۔ تب اس آخری یاددہانی نے مجھے گھر فون کرنے سے پہلے کئی بار سوچنے نہیں دیا تھا۔
لکھائی میں چھوٹی تبدیلی
پرچے پر لکھائی جلدی میں کی گئی تھی؛ حروف ایک دوسرے سے چپکے ہوئے اور آخری لفظ ذرا سا ٹیڑھا تھا۔ میں اکثر چیزوں کی فہرست بنا لیتا ہوں، مگر اس بار وہ ایک جملہ فہرست سے زیادہ دیر تک میرے ساتھ رہا۔ شاید اس لیے کہ اسے لکھتے وقت کسی کو یاد رکھنا بھی کام کا حصہ تھا۔
کاغذ کو پھینکنے سے پہلے
میں نے پرچہ فوراً پھینکا نہیں، بس کتاب کے بیچ رکھ دیا۔ اس میں کوئی بڑی بات درج نہیں تھی، صرف روزمرہ کے چند نام اور ایک فون کال کی یاددہانی تھی۔ لیکن کبھی کبھی یہی چھوٹی تحریریں بتا دیتی ہیں کہ کسی دن ہمارے ذہن میں کون سی بات سب سے آگے تھی۔
